ریل[2]

قسم کلام: اسم آلہ

معنی

١ - لوہے کی متوازی پٹڑیاں جن پر ٹرین چلتی ہے۔ "ریل کی وجہ سے جو اندرونِ ملک میں ہزارہا میل کی مسافت میں پھیل گئی ہے ہندوستان اور وسط ایشیا کے لوگوں کو اور بھی ملنے جلنے کا موقع ملا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، خطباتِ عبدالحق، ٩٩ ) ٢ - ٹرین، ریل گاڑی۔ "ان کا دل اس خیال سے دکھی ہو جاتا ہے کہ . ریل کے ظالم ڈبے نے ان کی کمر دوہری کر دی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٢٤٥ )

اشتقاق

انگریزی زبان سے اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل مفہوم کے ساتھ عربی رسم الخط کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے سب سے پہلے ١٨٩٠ء کو "جغرافیۂ طبعی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لوہے کی متوازی پٹڑیاں جن پر ٹرین چلتی ہے۔ "ریل کی وجہ سے جو اندرونِ ملک میں ہزارہا میل کی مسافت میں پھیل گئی ہے ہندوستان اور وسط ایشیا کے لوگوں کو اور بھی ملنے جلنے کا موقع ملا ہے۔"      ( ١٩٣٧ء، خطباتِ عبدالحق، ٩٩ ) ٢ - ٹرین، ریل گاڑی۔ "ان کا دل اس خیال سے دکھی ہو جاتا ہے کہ . ریل کے ظالم ڈبے نے ان کی کمر دوہری کر دی۔"      ( ١٩٧٠ء، قافلہ شہیدوں کا (ترجمہ)، ٢٤٥ )

اصل لفظ: Rail
جنس: مؤنث